پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کراچی میں شہری مسائل کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، اس لیے صرف کراچی کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ اس وقت فرانس شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں گرمی کے باعث متعدد افراد نہانے کے لیے پانی میں گئے اور مختلف حادثات میں تقریباً 40 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدا نہ کرے ایسا ہی کوئی افسوسناک واقعہ کراچی میں پیش آتا تو فوراً وزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا جاتا۔شرمیلا فاروقی نے مزید کہا کہ گزشتہ سال وہ نیویارک میں موجود تھیں، جہاں شدید بارشوں کے باعث انہیں دو روز تک ہوٹل سے باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے بقول نیویارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی، جہاں نکاسیٔ آب کا منظم نظام موجود ہے، موسمی حالات کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر بڑے شہر میں مختلف نوعیت کے مسائل پیش آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لیں، ان کا اعتراف کریں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے نظام میں خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ شہری مسائل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ چند ماہ قبل شرمیلا فاروقی نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کراچی کا موازنہ پیرس سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہ رہے ہوں”، جس پر انہیں سوشل میڈیا اور مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
