اسلام آباد: نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار 72 رفقاء کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں شبیہِ علم، تابوت اور ذوالجناح کے جلوس برآمد کیے جا رہے ہیں، جبکہ عزادار حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک میں مرکزی مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا، جہاں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مقررہ مقام پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ادھر کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ پر واقع شہداء چوک سے برآمد ہوا۔ جلوس کے روٹس کی جانب جانے والے تمام راستے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ راستے میں واقع تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بند رکھے گئے ہیں۔ جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مغرب کے وقت علمدار روڈ پر واقع مومن آباد امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔کوئٹہ میں شبیہِ ذوالجناح، تعزیوں اور علموں پر مشتمل جلوس 35 دستوں پر مشتمل ہے، جس کی قیادت بلوچستان شیعہ کانفرنس کے قائدین کر رہے ہیں۔ شیعہ کانفرنس کے مطابق جلوس کے ساتھ تقریباً 1200 رضاکار مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ عزاداروں کی سہولت کے لیے راستے میں 30 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق یومِ عاشور کے موقع پر کوئٹہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایف سی، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے 17 ہزار اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ جلوس کے راستوں کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
لاہور میں نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ کی جانب گامزن ہے۔ جلوس میں ہزاروں عزادار مرد، خواتین اور بچے شریک ہیں اور مختلف مقامات پر نوحہ خوانی، ماتم اور مجالسِ عزا کا سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح پشاور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور دیگر شہروں میں بھی یومِ عاشور کے مرکزی جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون نگرانی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
یومِ عاشور کے موقع پر حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں تین روز کی بھوک اور پیاس کے بعد دی جانے والی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں سبیلوں اور نیاز کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے عزاداروں اور شہریوں میں ٹھنڈے پانی، شربت اور کھانے کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔دریں اثنا صدر مملکت اور وزیر اعظم نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا حق، انصاف، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا لازوال درس دیتا ہے، جس سے پوری امت مسلمہ کو رہنمائی حاصل ہوتی رہے گی۔
