چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے ایم کیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو حکومت سے نکل جائے، پورے ملک میں صرف سندھ میں بلدیاتی نظام ہے، آئین میں ترمیم کراؤ، اسلام آباد میں الیکشن کراؤ، بلدیاتی نظام صرف بہانہ ہے، ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آئی پی پی اور ن لیگ کی مدد سے گلگت بلتستان میں حکومت بنائیں گے، گلگت بلتستان میں 90 دن کے اندر بلدیاتی الیکشن کرائیں گے۔کراچی کے دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں پیپلز پارٹی سے آپ کا کوئی مسئلہ نہیں،آپ کے کابینہ کے دوست آپ سے غلط بیانی کرتے ہیں ،اگر حکومت آپ کا مطالبہ پورا نہیں کرتی تو نکلو حکومت سے، یہ آپ کو ہم سے لڑوانا چاہتے ہیں،چند ایسے وزیر ہیں جو وزیر اعظم کی مدد کی بجائے مشکلات پیدا کرتے ہیں،سندھ میں منتخب ضلعی حکومتوں کو با اختیار بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کی باتیں ن لیگ کا کراچی کے لوگوں کے لئیے ایک لالی پاپ ہیں، اگر ایم کیو ایم اپنے مطالبات میں سنجیدہ ہے تو وفاقی حکومت سے الگ ہو کر دکھائے۔وزیراعظم شہبازشریف اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ،اپنی ٹیم کو کنٹرول کریں ،اس وقت صرف جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام ہے ، جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت وہاں وہ خوف زدہ ہے ایک یونین کونسل کے الیکشن کیلئے تیار نہیں،بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں آئین میں ترمیم ،یہاں اسلام آباد تک میں بلدیاتی نظام نہیں ہے
بلاول زرداری نے خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کشمیریوں کے بارے میں ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے ؟ کہ راولا کوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہے۔ایسا شخص اب تک وزیر کیسے ہے۔ کہ غلط بیان دیتا ہے اور اس پر معافی بھی نہیں مانگتا،ایک وفاقی وزیر نے کشمیر کے الیکشن سے متعلق کہا کہ ہم اپنی جیب میں 12 سیٹیں لے کر آتے ہیں، اِن کے اِس جیسے بیانات نے کشمیر میں یہ حالات پیدا کیے ہیں۔ تجویز ہے مولانا فضل الرحمان کی پیشکش کو قبول کیا جائے، حکومت کو سیاسی راستہ نکالنا چاہئے، ہمیں کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔
