برطانیہ نے خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے بارے میں برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی معیشت کو تقریباً 3.7 ارب پاؤنڈ کا فائدہ پہنچے گا۔
برطانوی حکام کے مطابق اس معاہدے میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد برطانوی برآمدات پر عائد تقریباً 580 ملین پاؤنڈ سالانہ ٹیرف ختم ہو جائیں گے، جس سے برطانوی مصنوعات کو خلیجی منڈیوں تک زیادہ آسان رسائی حاصل ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے سے برطانوی کمپنیوں کے لیے خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ موجودہ روزگار کو بھی تحفظ ملے گا۔
معاہدے کے تحت چیڈر پنیر، مکھن، چاکلیٹ اور دیگر برطانوی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹیاں ختم کی جائیں گی، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے میں انسانی حقوق، کارکنوں کے تحفظ اور مزدوروں کے حالات سے متعلق واضح شقیں شامل نہیں کی گئیں، جس پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔
ادھر کنزرویٹو پارٹی نے اس معاہدے کو “بریگزٹ کے بعد ایک اہم کامیابی” قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور موجودہ لیبر حکومت کو چاہیے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
یہ معاہدہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا تیسرا بڑا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ ہے۔ اس سے قبل برطانیہ بھارت اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی اہم تجارتی معاہدے کر چکا ہے۔
برطانیہ اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑا تجارتی معاہدہ طے
