افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وبا میں اب تک 139 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ سینکڑوں مزید مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو “بین الاقوامی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس “بونڈی بوجیو” نامی ایبولا strain ہے، جس کیلئے فی الحال نہ کوئی مخصوص ویکسین موجود ہے اور نہ ہی مؤثر علاج دستیاب ہے۔
امریکی حکام نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں سے اپنے شہریوں کے انخلا اور نگرانی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک امریکی ڈاکٹر بھی وائرس سے متاثر ہوا ہے جبکہ متعدد افراد کو احتیاطی نگرانی کیلئے یورپ منتقل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیا کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔
کانگو کے بعض علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی، جنگی صورتحال اور غربت کے باعث بیماری پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کی اصل تعداد ابھی واضح نہیں کیونکہ بہت سے متاثرہ افراد تک طبی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔
کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، عالمی تشویش بڑھ گئی.
