بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں ڈی سی چوک کے قریب مین بازار میں دستی بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔
ایس ایس پی اسد اللہ کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل کو نشانہ بناتے ہوئے دستی بم پھینکا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ دھماکے کے باعث بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق زخمیوں میں 4 پولیس اہلکار اور 9 شہری شامل ہیں۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 12 مئی کو خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں بھی موٹر سائیکل بم دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں دستی بم حملہ
