اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ.
ترجمہ: اللہ یقیناً ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ (سورۃ الصف، آیت 4)
"بنیان مرصوص” کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ قرآنی اصطلاح ایک ایسی مضبوط، متحد اور منظم جماعت کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کے درمیان کوئی دراڑ نہ ہو۔
بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر کے آپریشن کا نام "سندور” رکھا۔ جواب میں پاکستان نے دن کی روشنی میں 10 مئی 2025ء کو "آپریشن بنیان مرصوص” شروع کیا۔ ٹوئٹر پر دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر امریکہ و یورپ سے پاکستان کو روکنے کی اپیلیں کر رہا تھا، ہر طرف ان کی تباہی جاری تھی۔
> ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکون
> نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوتِ للکار نہیں
آپریشن بنیان مرصوص پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025ء کو بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ایک بڑا جوابی فوجی آپریشن تھا۔ "سیسہ پلائی دیوار” کے معنی رکھنے والا یہ آپریشن 22 اپریل سے 10 مئی 2025ء تک جاری رہنے والی کارروائیوں کا تسلسل تھا۔
حافظ، نمازی سپہ سالار نے حملے کا وقت بھی سنت کے مطابق صبح سویرے کا چنا۔ اللہ کے نبی ﷺ کی یہی ادا ہوتی تھی حملے کے وقت۔
اس معرکے میں چیف آف آرمی اسٹاف کی حکمتِ عملی دور اندیشی، برق رفتاری اور مربوط منصوبہ بندی کا مظہر رہی۔ مضبوط انٹیلیجنس، فضائی نگرانی اور سائبر صلاحیتوں کو یکجا کر کے ایسا نظام بنایا گیا جس نے دشمن کی پیش قدمی کو ابتدا ہی میں روک دیا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت پاک فوج نے زمین، فضا اور سائبر محاذ پر بیک وقت جارحانہ اور مؤثر کارروائیاں کیں جنہوں نے دشمن کے اہم ٹھکانوں اور رابطہ نظام کو مفلوج کر دیا۔ جوانوں کی جرات، درست نشانہ بازی اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہر محاذ پر برتری قائم رکھی۔ اس بھرپور جواب نے واضح کر دیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر جارحیت کا جواب فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔
بنیان مرصوص صرف ایک آپریشن نہیں، یہ ایمان والوں کی وہ للکار ہے جو اب قرآنی آیات کی زبان میں گونجے گی۔ آرمی چیف نے تلاوتِ کلام کے بعد دعا کی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے تحت بھارت پر میزائل حملے شروع کیے گئے۔ "بنیان مرصوص” کا مطلب ‘سیسہ پلائی آہنی دیوار’ ہے۔
پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کی ادھم پور، پٹھان کوٹ ایئربیس اور براہموس اسٹوریج تباہ ہو چکی ہیں جبکہ سائبر اٹیک کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈ ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازع کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے بھارتی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب” کے طور پر تیار کیا تھا۔
> زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
> جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
پاکستان کے شاہین الحمدللہ اس صدی کے وہ زندہ جاوید مجاہد ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔
> میرے دوستوں کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
> وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا
دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن میری نمبر ون بدلہ نہیں چھوڑتی، یہ اس کی فطرت میں ہے۔
> کھلبلی سی مچ گئی ہے کفر کے ایوان میں
> جان دیکھو آ گئی ہے مومنوں کی جان میں
> معرکہ ہرگز نہ تھا یہ صرف پاک و ہند کا
> کفر تھا سارے کا سارا سامنے میدان میں
مودی نے متکبر اور پرغرور لہجے میں کہا تھا "پاکستان ہم نے توڑا، مکتی باہنی ہم نے بنائی!”
یقیناً مودی اور پورے بھارت کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ بدلے کا میدان کس کونے میں سجتا ہے۔
یہ معرکہ صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے دلوں میں جلتی ہوئی ایک ایسی آگ تھی جس نے ہر پاکستانی کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ اس آزمائش کی گھڑی میں قوم کا جذبہ، ماؤں کی دعائیں، بہنوں کے ڈھول، عوام کی محبت اور فوج کے جوانوں کا شوقِ شہادت ایک ایسا باب بن گئے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھے گی۔
> عزم تھا اور جوش بھی ہاں ولولہ اور ہوش بھی
> تھا شہادت کا جنوں افواجِ پاکستان میں
جب بھی وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو سب سے پہلے ماؤں کی دعائیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔ اس معرکے میں بھی پاکستان کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا۔ کسی ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما، کسی نے قرآن سر پر رکھا، کسی نے آنسو چھپاتے ہوئے مسکرا کر کہا: بیٹا! سرحد پر جانا، مگر سر جھکنے نہ دینا۔ یہ دعائیں ہی تھیں جو ہمارے جوانوں کے حوصلے کو فولاد بناتی رہیں۔
دوسری طرف بہنوں کا جذبہ بھی کسی سے کم نہ تھا۔ گلیوں اور محلوں میں جب جوان رخصت ہوتے تو بہنیں ڈھول کی تھاپ پر ان کی ہمت بڑھاتیں۔ یہ ڈھول کی آواز دراصل قوم کے اعتماد کی آواز تھی جو سپاہیوں کے دلوں میں گونجتی رہی کہ وہ اکیلے نہیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
فوج کے جوانوں کا جوش اور شوقِ شہادت اس معرکے کی اصل طاقت تھا۔ جب کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے تو وہ صرف ایک انسان نہیں رہتا بلکہ ایک عہد بن جاتا ہے۔ ان جوانوں نے ثابت کیا کہ وطن کی محبت ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
عام عوام نے بھی اس معرکے میں اپنی محبت اور تعاون سے مثال قائم کی۔ کوئی اپنے سپاہیوں کے لیے دعائیں کر رہا تھا، کوئی ان کے لیے کھانا اور امداد بھیج رہا تھا، کوئی سوشل میڈیا پر حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ ہر جگہ ایک ہی آواز تھی: ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔
اس معرکے نے ثابت کر دیا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبوں سے جیتی ہیں۔ جب ایک طرف جوان سرحد پر کھڑے ہوں اور دوسری طرف پوری قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن جائے تو پھر کوئی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔
کسی بھی قوم کے لیے اس کی فوج سر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب سر سلامت ہو تو پورا وجود محفوظ رہتا ہے۔ ہماری فوج بھی اسی طرح وطن کی عزت، وقار اور سلامتی کی علامت ہے۔ جب سپاہی سرحدوں پر جاگتے ہیں تو شہروں میں چراغ بے خوف جلتے ہیں، بچے سکون سے سوتے ہیں اور مائیں اطمینان کی سانس لیتی ہیں۔ عوام کو یقین ہوتا ہے کہ ہمارے محافظ بیدار ہیں، اس لیے ہمارا کل محفوظ ہے۔ یہی اعتماد قوم کی طاقت بنتا ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو فوج اور عوام کو ایک مضبوط دیوار کی طرح جوڑ دیتا ہے۔
یہ لمحے، یہ قربانیاں اور یہ جذبے وقت کے ساتھ مٹنے والے نہیں۔ آنے والی نسلیں جب تاریخ پڑھیں گی تو انہیں بتایا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوری قوم ایک دل، ایک آواز اور ایک پرچم کے نیچے کھڑی ہو گئی تھی۔
> روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں
> ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں
> آگے بڑھنا ہے تو رستہ ہے شہادت والا
> جہاں دستار نہیں جاتی، ہے سر جاتے ہیں
_پاک فوج پائندہ باد
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
