Baaghi TV

معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

وطن عزیز پاکستان اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز و محور ہے۔ہمارے ملک کی قومی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد اور یک جہتی کی بدولت ایک سال کے اندر پاکستان کو وہ اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل حاصل نہیں تھا۔پاکستان "معرکہء حق” میں دنیا کے سامنے اپنی حکمت عملی ، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری طاقت کے جوہر دکھا چکا ہے ۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی سرکار نے انتہا پسند ” ہندوتوا” کےزیر اثر ،اپنے تئیں ریاست پاکستان کو غافل سمجھ کر حملہ کردیا ،شہری آبادیوں میں ڈرون بھیجے گئے اور لڑائی کا ماحول بنادیا۔ بھارت کا دفاعی بجٹ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن پھر بھی پاکستان اپنے دشمن کے خلاف چوکنا تھا چنانچہ ساری قوم سبز ہلالی پرچم تلے متحد ، یک جان ہوکر ” بنیان مرصوص ” ( سیسہ پلائی دیوار) بن گئی ۔شہریوں نے بھی اپنے ہتھیار نکالے اور فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر حملہ آور ڈرون گرانے لگے۔ پاک فورسز نے بھارت کا 400-S دفاعی نظام بھی اڑا کے رکھ دیا ۔ دشمن کے سات طیارے مار گراۓ بلکہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے اندر جاکے گجرات اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا۔پاکستانی سوشل میڈیا واریئرز اور لکھاریوں نے اپنے قلم اور کی بورڈز کے ساتھ دفاع پاکستان کے بیانیے کی جنگ لڑی اور اپنی حب الوطنی ، دلیری و مضبوط مؤقف کو دنیا کے سامنے ثابت بھی کر دکھایا،آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں نے سائبر فورس کے طور پر مورچہ سنبھالا اور بھارت کے سائبر سسٹم کو ہیک کرلیا۔ جب فرانس سے خریدے گئے طیاروں رافیل کو پاکستانی پائلٹوں نے بفضلِ الہی مار گرایا تو پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، پاکستانی پائلٹوں کو ” کنگز آف دا سکائیز ” کا لقب دیا گیااور بھارتی وزیراعظم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کرکے جنگ رکوانا پڑی۔

بھارت کے ” آپریشن سیندور” کو پاکستان کے ” معرکہء حق” نے ” آپریشن تندور” میں بدل دیا ۔ بھارت کو یہ شکست ہضم کرنا مشکل ہوگئی کیوں کہ پوری دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے جب بیان دیا کہ دریاؤں میں پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے تو ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت جواب دیا کہ اگر تم ہمارا پانی بند کروگے تو ہم تمہارا سانس بند کردیں گے!۔ مؤثر حکمت عملی سےعالمی سطح پر پاکستان کا نہ صرف وقار بلند ہوا ہے بلکہ دیگر ممالک پاکستان سے جنگ سیکھنے کی درخواست کر رہے ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر وزراء کے ساتھ مسلمان برادر ممالک کے کئی دورے کیے ہیں ،سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا دفاعی معاہدہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ” محافظ _حرمین شریفین” کے اعلی مقام کے لئے چن لیا ہے۔

‏ بھارتی وزیراعظم مودی کا بیان ہے کہ آپریشن سندور بند نہیں ہوا ۔ممکنہ طور پر وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں ہے ۔بھارتی جنگ تین اقسام کی ہوسکتی ہے
1: نفسیاتی و اعصابی جنگ، سفارتی سطح پر لابنگ یا پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن وغیرہ-
2: دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے قومی اداروں، فوج اور عوام پر حملے ،دھماکے یا خودکش حملے کروانا-
3: غلط خبروں ، فیک پروپیگنڈہ اور کردار کشی کی میڈیا وار کے ذریعے بحران برپا کرنا-
ان حالات میں پاکستانی عوام کو دشمن کی پراکسیز سے ہوشیار رہنے ،حالات حاضرہ سے باخبر رہنے اور اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی برقرار کی ضرورت ہے۔ سنی سنائی باتوں ،افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈہ سے اپنا دامن بچانا ہوگا تاکہ بے خبری میں کسی اپنے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔

آج سے 78 برس قبل ہمارے آباؤ اجداد نے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے کتنے دریا عبور کئے اور پھر کہیں جا کر وہ اس قابل ہوۓ کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ،اپنے بچوں کو آزاد فضا اور زمین دلا سکیں -ہم نے اپنے رب سے مانگا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین عطا کر جہاں ہم اپنے دین اور اپنے تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں اور رب نے ہمیں وہ خطہ عطا کردیا !

الحمدللہ،وطن عزیز پاکستان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تحفۂ خاص ہے بہترین زرخیز زمین ،بہترین آب و ہوا،بہترین موسم ،بہترین انسانی وسائل ،بہترین سمندری بندرگاہیں،بلند ترین پہاڑی چوٹیاں ،ہیرے جواہرات اور معدنی ذخائر سے مالا مال پہاڑ ۔اللہ نے ہم پہ اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں ، کمی اگر ہے تو ہماری کوششوں میں ہے کہ ہم نے اپنے وطن کو جس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا ،اس مقصد کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مقصد وطن عزیز پاکستان کو ایک "جدید اسلامی فلاحی ریاست” بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ عدالتیں اپنے فیصلے قرآن وسنت کے مطابق کریں۔ جہاں غریب طبقہ بھی خوش حال ہوسکے ۔جہاں امن وامان قائم ہو ،جہاں کسی کمزور کو کسی طاقت ور سے خطرہ لاحق نہ ہو ۔جہاں معاشرہ خدا خوفی اور انسانی ہمدردی کی اقدار پر چلتا ہو۔جہاں بچوں اور جوانوں کے لئے تعلیم کا حصول ممکن ہو ،جہاں بزرگوں کو سینئیر سیٹیزن وظیفہ ملتا ہو اور انھیں پنشن گھر بیٹھے مل جایا کرے۔ ہسپتالوں میں ہر عام وخاص کو علاج معالجہ کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔یہ تاریخ ساز لمحات ہیں کہ چند سال قبل تک ہمیں ایک ناکام ریاست سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ وطن دنیا بھر کی آنکھ کا تارا بن چکا ہے۔ "پاکستان کو امن کے سفیر” کے طور پر سراہا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا امیج برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کی حالتِ زار پر بھی توجہ دی جائے ،مہنگائی ختم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں،آئی ایم ایف سے قرضے معاف کروائے جائیں ۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز ہمیشہ سلامت رہے اور عالم_اسلام کے دکھوں کا مداوا بھی کرسکے۔آمین۔

~ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے!

More posts