Baaghi TV

کالعدم بی ایل اے میں شامل ہونیوالا میڈیکل طالب علم ہلاک

bla

ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والا لال خان نواز، جو کہ ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا، انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا، بولان میڈیکل کالج کے ہونہار اسکالرشپ ہولڈر طالب علم لال خان جیسے نوجوانوں سے قلم چھین کر بندوق تھما دی گئی اور وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

بولان میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس طالب علم لال خان نواز کی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اور بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا ہےاطلاعات کے مطابق لال خان نواز حکومت بلوچستان کی اسکالرشپ پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، تاہم بعد میں اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لال خان نواز بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا اور حکومتی اسکالرشپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا اس کا تعلیمی سفر اسے ڈاکٹر بننے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کی جانب لے جا رہا تھا، تاہم بعد میں وہ کالعدم بی ایل اے کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق تنظیم میں شمولیت کے بعد وہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف مختلف کارروائیوں میں سرگرم رہا، ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپ میں لال خان نواز ہلاک ہوگیا۔

کالعدم بی ایل اے کی سفاکیت اور درندگی اب کسی سے چھپی نہیں، جو اپنے ناپاک اور شوم عزائم کی تسکین کے لیے معصوم، کم عمر نوجوانوں کے مستقبل کا سودا کر رہی ہے۔واقعے نے ایک بار پھر اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے بیانیے سے متاثر کرکے انہیں تعلیم اور مستقبل کے مواقع سے دور کر رہی ہیں-

‘فتنہ الہندوستان’ جیسے عناصر دہشتگردی اور فکری گمراہی (برین واشنگ) کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر کے ان کا روشن مستقبل، خاندانوں کی امیدیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں، جو اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں تباہ کن ہتھیار نہیں بلکہ قلم اور کتاب ہونی چاہیے۔

More posts