Baaghi TV

سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی،وفاقی آئینی عدالت

constitutional court

وفاقی آئینی عدالت نے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں اور دیگر کے خلاف اساتذہ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں فیصلہ جاری کر دیا-

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی، کیونکہ دونوں عدالتوں سے متضاد فیصلوں کی صورت میں انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملکیتی تنازع یا متنازع دستاویزات کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے،

کیس میں سابق ای ڈی او اور دیگر افسران کے خلاف بوگس دستاویزات کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کرنے کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ جعلی اور متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ التوا تھا۔

جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ فیصلے میں آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متنازع دستاویزات یا سرٹیفکیٹس کی اصلیت اور قانونی حیثیت کا تعین سول عدا لت کے اختیار میں ہے ، متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ہونے سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی،اگر سول اور فوجداری مقدمات ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو انصاف کے تقاضوں کے تحت فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش موجود ہےتاہم عدالت نے واضح کیا کہ بدنیتی سے دائر کیے گئے سول مقدمے کو محض فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات، مقدمے کی نوعیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا،وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایک ہی معاملے میں سول اور فوجداری عدالتوں کیجانب سے مختلف نتائج سامنے آنے سے انصاف کے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے متنازع دستاویزات سے متعلق بنیادی سوال کا فیصلہ پہلے سول عدالت سے کرایا جانا ضروری ہے۔

More posts