جماعت اسلامی کی کال پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی ٹیکس کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتال جاری ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کی “مکمل حمایت” سے کراچی سمیت مختلف حصوں میں بازار اور مارکیٹیں “مکمل بند” ہیں،جماعت اسلامی نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر ہڑتال سے متعلق کافی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں کراچی اور دیگر علاقوں میں بند بازاروں، دکانوں، اور پیٹرول پمپوں کے مناظر دکھاتے ہوئے شڑڈاؤن ہڑتال کامیابی سے جاری ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کیخلاف اور مہنگائی کے خاتمے سمیت کئی مطالبات کے حق میں 15 اگست کو چاروں صوبوں میں احتجاجی دھرنے شروع کیے تھے، جس کے 18 روز بعد مطالبات کی عدم منظوری کے باعث ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔
ہڑتال کی کال گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دی تھی۔ لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اور اسلام آباد سمیت متعدد شہروں کے تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ان شہروں میں مارکیٹیں بند ہوں گی-
کراچی میں ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر ناخوشگوار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں کورنگی کراسنگ کے قریب ‘نامعلوم افراد’ نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ٹائر نذر آتش کیے،پولیس کے مطابق ‘نامعلوم افراد’ نے سڑک پر کھڑی 2 موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ پولیس کی نفری موقع پر پہنچتے ہی مشتعل افراد فرار ہو گئے، جس کے بعد کورنگی روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں نفری تعینات کر دی ہے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورنگی کراسنگ پر جلاؤ گھیراؤ کے واقعے سے جماعت اسلامی کا کوئی تعلق نہیں اور اس طرح کا واقعہ ان کے علم میں نہیں۔
وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں ‘نامعلوم افراد’ کی جانب سے حالات خراب کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے،انہوں نے ‘شرپسند عناصر’ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگانے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل سندھ حکومت کے ترجمان اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں “جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند کرنے” کے واقعات کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی زندگی اجیرن کرنا اور شہر میں بدامنی پھیلانا انتہائی افسوسناک ہے۔ “جماعت اسلامی کو احتجاج کا پورا حق ہے، تاہم شرپسند عناصر کو عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
شرجیل میمن نے کہا کہ آگ لگانے، سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور احتجاج کے نام پر کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
دوسری جانب پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کے قائدین سے اہم مذاکرات کرے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی کمیٹی دوپہر 3 بجے منصورہ پہنچے گی اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ مسائل کا حل نکالنے جا رہی ہے، کیونکہ ملک اس وقت دھرنوں اور جلوسوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسے امن و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے جس میں فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، ضیاءالدین انصاری، اور نوید علی بھی شامل ہونگے،جبکہ حکومی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
