صوبائی وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان نے گندم کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے محکمہ خوراک کے پانچ افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افسران پر ذخیرہ اندوزوں سے مبینہ ملی بھگت اور سرکاری کارروائی کو متاثر کرنے کے الزامات ہیں۔
صوبائی وزیر خوراک کے مطابق معطل کیے گئے افسران میں فوڈ سپروائزر شفاعت بلوچ، ندیم احمد شیخ، خلیل احمد میمن، نصیر احمد میمن اور فوڈ انسپکٹر وحید احمد شیخ شامل ہیں۔ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مکمل تحقیقات تک انہیں اپنی ذمہ داریوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بعض افسران نے مبینہ طور پر چھاپوں سے قبل ذخیرہ اندوزوں کو آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں گندم کے ذخائر خفیہ طور پر دوسری جگہ منتقل کر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری اہلکار عوامی مفاد کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کی معاونت کریں تو ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ نے کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ذخیرہ اندوزوں کی سرپرستی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ جو بھی سرکاری ملازم قانون کی خلاف ورزی یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے پانچوں معطل افسران کے خلاف شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی محکمانہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گندم کی ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق عوام کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
گندم ذخیرہ اندوزی پر بڑا ایکشن، محکمہ خوراک کے 5 افسران معطل
