Baaghi TV

‎غیر قانونی کچرے کے ڈھیروں سے خطرناک کیمیکلز کا انکشاف

‎برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قائم کچرے کے تین بڑے ڈھیروں سے سیکڑوں خطرناک کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جنہیں ماہرین نے انسانی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ تحقیقات کے دوران فضائی آلودگی، پانی اور مٹی کے نمونوں میں ایسے زہریلے مادے پائے گئے جو طویل مدت میں مختلف بیماریوں اور ماحولیاتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسکائی نیوز نے ماحولیاتی تحقیقاتی ادارے آکسفورڈ انڈائسز کے سائنسدانوں کے تعاون سے گلوسٹر، وگن اور رینسکل (ڈونکاسٹر کے قریب) واقع تین غیر قانونی ویسٹ سائٹس پر ہوا، پانی اور مٹی کے تفصیلی ٹیسٹ کیے۔ ان تجزیوں میں سیکڑوں مختلف کیمیائی مرکبات کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے کئی کو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔
‎ماحولیاتی ادارے انوائرمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر موجود کیمیائی مادے مقامی آبادی، جنگلی حیات اور ماحول پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
‎تحقیقات کے مطابق گلوسٹر کے علاقے اوور فارم میں گزشتہ سات برس سے تقریباً ایک لاکھ ٹن کچرا جمع ہے۔ وہاں سے اٹھنے والے دھوئیں کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ فضا میں موجود کیمیائی مادوں کی تعداد ایک عام گاڑی کے ایگزاسٹ سے خارج ہونے والے کیمیکلز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھی۔
‎سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر ایسے کیمیائی مرکبات پائے گئے جو عام طور پر جلتے ہوئے یا گرم کیے گئے ایندھن، تیل، پلاسٹک، ٹائروں، ریزن، پینٹس، سالوینٹس، خوراک کے فضلے، خوشبو دار مصنوعات اور کلورین والے مواد سے خارج ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض مادے سانس، جلد اور دیگر جسمانی نظاموں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک ان کے سامنے رہنے سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی کچرے کے ڈھیر نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ زیر زمین پانی، زرعی زمین اور قریبی آبادیوں کے لیے بھی مستقل خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ ان مقامات کی فوری صفائی، ماحولیاتی نگرانی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی صحت اور ماحول کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

More posts