Baaghi TV

‎امریکی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایران کا مؤقف

‎ایران نے اپنے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق امریکی حملوں اور دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور عالمی جوہری اداروں کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا کی حالیہ کارروائیاں ایران کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
‎ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ کیے گئے حفاظتی معاہدوں کے مطابق مکمل طور پر ظاہر کی گئی ہیں اور ان سے متعلق تمام ضروری معلومات ادارے کو فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
‎ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کولنگ کوہ (Kolang Kouh) کے مقام کو نشانہ بنانے یا اس پر توجہ مرکوز کرنے کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ایرانی مؤقف کے مطابق وہاں کوئی جوہری سرگرمی موجود نہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس مقام کو بنیاد بنا کر ایران کے خلاف جارحیت، تخریب کاری اور دباؤ کے لیے ایک مصنوعی جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔
‎ایرانی حکام نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں عالمی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔ بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل، جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار بھی ہیں، اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
‎ایران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور سائنسی ترقی کے تحفظ کے لیے ایرانی عوام متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
‎واضح رہے کہ مذکورہ بیان ایران کا سرکاری مؤقف ہے۔ امریکا اور دیگر متعلقہ فریقین ایران کے جوہری پروگرام اور حالیہ کشیدگی کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ ان معاملات پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی رابطے اور بحث جاری ہے۔

More posts