وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی اور سرکاری دستاویزات تیار کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نادرا کے دو افسران سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے افغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث تھے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور سہولت کاروں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نادرا کا ایک چوکیدار اور ایک نجی شخص بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن پر مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی تیاری اور فراہمی میں معاونت کا الزام ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی شناختی دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈ تیار کرنے کے مبینہ دھندے میں ملوث تھے۔ ایف آئی اے اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس نیٹ ورک نے مزید افراد کو بھی غیر قانونی دستاویزات فراہم کیں اور اس میں کسی دوسرے ادارے یا شخص کا کردار تو موجود نہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق گرفتار ملزمان سے ریکارڈ، کمپیوٹر ڈیٹا اور دیگر شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ جعلی دستاویزات کی تیاری کے طریقہ کار اور اس سے وابستہ تمام افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ اگر تحقیقات کے دوران مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں جعل سازی اور غیر قانونی شناختی ریکارڈ کی تیاری قومی سلامتی اور ریاستی نظام کے لیے سنگین جرم ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔
کراچی میں افغان شہریوں کے جعلی کاغذات بنانے کا معاملہ، نادرا کے 2 افسران سمیت 4 افراد گرفتار
