بھارت میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جہاں دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف علاقوں میں طلبہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مسلسل سڑکوں پر موجود ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد متعدد طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے ان مقدمات کو اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اب تک اس معاملے پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم احتجاجی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
معروف بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے ردعمل پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے نوجوانوں کے مؤقف کو سننا چاہیے اور جمہوری معاشروں میں پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
نصیرالدین شاہ نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے جانے والے بعض اقدامات جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں مختلف حلقے ان کی رائے کی حمایت اور مخالفت میں اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
ادھر طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا، جبکہ حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ صورتحال پر ملکی اور بین الاقوامی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت میں طلبہ احتجاج میں شدت، نصیرالدین شاہ بھی مظاہرین کے حق میں بول پڑے
