Baaghi TV

کانگو میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز

‎جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2 ہزار 11 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 754 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار اس پر قابو پانے کی کوششوں سے زیادہ ہے، جس کے باعث صورتحال مزید تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔
‎بین الاقوامی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایبولا کے مریضوں کی تعداد تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کی تاریخ میں ایبولا کی تیسری بڑی اور تیزی سے پھیلنے والی وباؤں میں شامل ہو گئی ہے۔
‎وبا کے مرکز بننے والے شہر بونیا کے جنرل اسپتال میں طبی عملے نے بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال کر دی ہے۔ ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے اسپتال کے داخلی راستے بند کر دیے اور مؤقف اختیار کیا کہ انتہائی خطرناک حالات میں خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں بروقت معاوضہ نہیں دیا جا رہا۔
‎طبی ماہرین کے مطابق ایبولا ایک مہلک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ انسان یا جانور کے جسمانی رطوبتوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری میں تیز بخار، شدید کمزوری، قے، جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں سے خون بہنا اور دیگر سنگین علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں اس بیماری سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق موجودہ وبا نایاب بُنڈی بگیو (Bundibugyo) وائرس سے پھیل رہی ہے۔ اس وائرس کے لیے اب تک نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی مؤثر علاج، جبکہ ایبولا کی زیادہ عام قسم زائیر وائرس کے لیے ویکسین اور علاج موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں کو اس وبا پر قابو پانے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
‎عالمی ادارہ صحت اور امدادی تنظیمیں مقامی حکومت کے ساتھ مل کر مریضوں کی شناخت، قرنطینہ، آگاہی مہم اور طبی سہولیات کی فراہمی پر کام کر رہی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وسائل اور طبی امداد میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو وبا مزید علاقوں میں پھیل سکتی ہے اور انسانی جانوں کا نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔

More posts