وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہزار 734 ہو گئی ہے۔ ملک کے اعلیٰ قانون ساز جارج روڈریگیز کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریسکیو اور ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث مزید لاشیں ملنے کے بعد اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق 24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں عمارتیں متاثر ہوئیں، رہائشی مکانات، کاروباری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ متعدد علاقے اب بھی بحالی کے منتظر ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں کی تعداد 16 ہزار 740 پر برقرار ہے، جبکہ 17 ہزار 907 افراد اب بھی بے گھر ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم کئی علاقوں میں رسائی اب بھی مشکل ہے۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کا عمل تیز کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام شروع کر رکھا ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے، لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ شہریوں کی عارضی رہائش کے انتظامات میں مصروف ہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس برقرار رکھا ہے، جس کے باعث کئی عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے کر خالی کرا لیا گیا ہے۔ انجینئرنگ ماہرین عمارتوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں نے وینزویلا کے لیے ہنگامی امداد میں اضافہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو طویل مدت تک رہائش، طبی سہولیات، صاف پانی اور خوراک کی ضرورت رہے گی۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی میں کئی ماہ، بلکہ بعض مقامات پر برسوں لگ سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور صرف محفوظ قرار دی گئی عمارتوں میں ہی رہائش اختیار کریں، جبکہ امدادی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں۔
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 734 ہوگئی
