بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی معاشی پالیسیوں پر ایک بار پھر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ روسی تیل کی مسلسل خریداری کے معاملے نے نئی دہلی کے لیے سفارتی اور اقتصادی سطح پر ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس سے تیل درآمد کرنے والے پانچ ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق ایک مجوزہ بل سامنے آنے کے بعد بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کے بھارت کی تجارت، برآمدات اور مجموعی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی توانائی پر انحصار نے بھارت کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک جانب نئی دہلی نسبتاً سستا خام تیل حاصل کرکے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ممکنہ تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے خدشات نے معاشی منصوبہ بندی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جاتا ہے تو بھارتی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ مودی حکومت کی بعض اقتصادی پالیسیاں ملک کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق "شائننگ انڈیا” اور دنیا کی بڑی معاشی طاقت بننے کا وژن ایسے حالات میں مزید چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ توانائی کی ضروریات اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی صورتحال کے مطابق اپنی اقتصادی حکمت عملی کو بھی مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس مجوزہ بل اور عالمی ردعمل کی پیش رفت بھارت کی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر دباؤ، مودی کی معاشی پالیسیوں پر نئے سوالات
