واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں پانی کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا، جبکہ بھارت ہزاروں آبی ذخائر تعمیر کر چکا ہے، جس سے پاکستان کو اپنی آبی حکمت عملی پر ازسرنو توجہ دینا ہوگی۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں کہی، جس کی صدارت سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی۔ اجلاس کے دوران سیلاب سے تحفظ، دریاؤں میں تجاوزات، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دریاؤں اور ندی نالوں پر تجاوزات کے 227 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان میں سے صرف 18 مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی جا سکی ہیں۔ پنجاب حکومت نے 2 ہزار 737 مقامات پر تجاوزات کی نشاندہی کی ہے، جن کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔
چیئرمین کمیٹی جام سیف اللہ خان نے سیلاب کی بروقت پیش گوئی اور دریائی نظم و نسق کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ دریائے چناب پر مجوزہ آبی ذخائر اور انڈس واٹر ٹریٹی کے تناظر میں قومی آبی سلامتی سے متعلق خصوصی اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں انڈس واٹر کمشنر، وزارت خارجہ، عالمی بینک، این ڈی ایم اے اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے۔
کمیٹی کے رکن خلیل طاہر نے دریائے راوی میں تجاوزات اور گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر چیف انجینئر پنجاب نے بتایا کہ دریائے راوی کے کنارے قائم آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں، تاہم چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کو درست اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں، بصورت دیگر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
چیئرمین واپڈا محمد سعید نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تقریباً پانچ ہزار ڈیم تعمیر کر چکا ہے، جبکہ پاکستان میں تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا، جو لمحۂ فکریہ ہے۔
انہوں نے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ اس وقت بند ہے اور اس سے متعلق مختلف انکوائریاں جاری ہیں۔ امید ہے کہ مارچ 2028 تک اسے دوبارہ فعال کر دیا جائے گا تاکہ قومی گرڈ کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
محمد سعید نے سندھ میں نئی گاج ڈیم منصوبے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ منصوبہ عدالتی کارروائی کے باعث رکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق نئی گاج ڈیم کی تکمیل سے دادو اور سیہون کے علاقوں کو سیلاب سے تحفظ ملے گا، تقریباً 28 ہزار ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنے گی، جبکہ منصوبے پر اب تک 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں
پاکستان کو پانی کی سکیورٹی کے لیے نئے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے، چیئرمین واپڈا
