امریکا نے ایک بڑے بین الاقوامی آپریشن کے دوران بھارتی جرائم پیشہ گروہ کے مبینہ سربراہ لارنس بشنوئی اور اس کے 35 سے زائد مبینہ ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی ہے، جبکہ کینیڈا نے بھی بشنوئی گینگ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کے تحت بیک وقت کیلیفورنیا، انڈیانا، جارجیا، کینیڈا اور اسپین میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ امریکی پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ لارنس بشنوئی، جو اس وقت بھارت میں جیل میں قید ہے، وہاں سے ایک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
امریکی فردِ جرم کے مطابق بشنوئی گینگ پر بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحے کی غیر قانونی ترسیل اور کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا نے بھی اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنوبی ایشیائی تارکین وطن کو تشدد، دھمکیوں اور بھتہ خوری کے ذریعے نشانہ بناتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کو مغربی ممالک صرف ایک مجرمانہ تنظیم نہیں بلکہ سرحد پار سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
لارنس بشنوئی کا نام بھارت میں اس وقت نمایاں ہوا جب پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل، بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں اور سابق بھارتی وزیر بابا صدیقی کے قتل جیسے مقدمات میں اس کے گروہ کا نام سامنے آیا۔ تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ایک وسیع بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک سرگرم تھا۔
واضح رہے کہ امریکی فردِ جرم الزامات پر مشتمل ہوتی ہے اور مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔
امریکا اور کینیڈا کی لارنس بشنوئی گینگ کے خلاف بڑی کارروائی، عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورک قرار
