ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوبی لبنان میں مارچ کے دوران ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں پر جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں 24 شہری جان سے گئے، جن میں 12 بچے بھی شامل تھے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تحقیقات کے مطابق ان حملوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 6، 12 اور 13 مارچ کو لبنان کے جنوبی اضلاع Tyre، Sidon اور Nabatieh میں رہائشی گھروں پر فضائی حملے کیے گئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں چھ خواتین، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں، چھ مرد اور 12 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے۔
تنظیم نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی بنیاد موجود ہے کہ اسرائیلی فورسز نے شہریوں یا شہری املاک کو نشانہ بنایا، یا فوجی اور شہری اہداف میں مناسب فرق نہیں کیا، یا پھر حملوں کے دوران شہریوں کے جانی نقصان کو محدود رکھنے کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی علاقائی ڈائریکٹر کرسٹین بیکرلے نے کہا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران پورے کے پورے خاندان تباہ ہو گئے، جن میں ایک درجن بچے بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل پر جامع اسلحہ پابندی عائد کرنی چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والا حالیہ اسرائیل اور لبنان معاہدہ ممکنہ طور پر احتساب کے عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ایمنسٹی نے لبنان پر زور دیا ہے کہ اپنے علاقے میں ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات کا اختیار دے۔