غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 8 فلسطینی شہید اور 17 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی شہادتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلسل بمباری اور گولہ باری کے باعث غزہ کی انسانی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
وزارت صحت نے بتایا کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ کئی زخمی سڑکوں اور کھلے مقامات پر امداد کے منتظر ہیں۔ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی ٹیموں کو مسلسل حملوں اور تباہ شدہ راستوں کے باعث متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی گھر پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو فلسطینی شہید ہوئے۔ حملے میں بطن السمین کے علاقے میں واقع ایک گھر کے صحن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں ناصر اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث اسپتالوں پر بھی شدید دباؤ ہے اور طبی سہولیات محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ، امدادی سرگرمیوں کی بحالی اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 8 فلسطینی شہید
