ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بوشہر کے مختلف مقامات سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت، مقام یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بوشہر ایران کا ایک انتہائی اہم صوبہ ہے کیونکہ یہاں ملک کا واحد فعال جوہری بجلی گھر، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی غیر معمولی واقعے کو حساس نوعیت کا سمجھا جاتا ہے اور اس پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بوشہر کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل ایرانی حکام نے بوشہر کی دو فوجی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کی تھی، جبکہ ان حملوں کے بعد ممکنہ جوہری خطرات کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
تازہ دھماکوں کے بعد مقامی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے علاقے کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کسی فوجی کارروائی، فضائی حملے، تکنیکی خرابی یا کسی اور وجہ سے ہوئے۔
ایرانی حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے صوبہ بوشہر میں متعدد دھماکے، علاقے میں تشویش کی لہر
