راولپنڈی کے حساس علاقے چکلالہ اسکیم تھری میں عسکری بینک کے ایک سینئر افسر کے گھر پر مسلح افراد کے حملے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واقعے کے حوالے سے متاثرہ خاندان کی درخواست پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ افسر کی شناخت عمر اعتزاز کے نام سے ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں اس واقعے کو بیرون ملک موجود افراد اور مبینہ بین الاقوامی جرائم پیشہ عناصر سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران گھر پر موجود سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کا تعلق ہانگ کانگ میں پیش آنے والے ایک الگ حملے اور مبینہ بھتہ خوری کے تنازع سے ہو سکتا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق بیرون ملک ایک کاروباری تنازع کے بعد پاکستان میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تاہم اس حوالے سے نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ہانگ کانگ پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔
اسی طرح بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں چند افراد کے نام بھی حملے سے جوڑے جا رہے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تاحال کسی شخص کے ملوث ہونے کی تصدیق یا گرفتاری کا اعلان نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
راولپنڈی میں عسکری بینک افسر کے گھر حملے کی تحقیقات جاری، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
