اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ خودکش حملہ کیس میں گرفتار دو مبینہ سہولت کاروں کا جسمانی ریمانڈ مزید سات روز کے لیے منظور کر لیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور تحقیقات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ملزمان واصف اللہ اور محمد شفیق کو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 10، 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے دونوں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ سات روز کے لیے منظور کر لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق دونوں ملزمان کو سی ٹی ڈی مردان نے گرفتار کیا تھا۔ دورانِ تفتیش مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ وہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں سہولت کاری اور معاونت میں ملوث تھے۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت مردان سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نہ صرف حملہ آوروں کی منصوبہ بندی میں شریک تھے بلکہ انہیں مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے۔ تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کی مدد کے لیے رقوم ایک بائنانس اکاؤنٹ کے ذریعے موصول کی گئیں، جس کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ملزمان کے بائنانس اکاؤنٹ کی تصدیق اور مالی لین دین کی جانچ کے لیے ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل (VCIC) کو باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ متعلقہ ریکارڈ موصول ہونے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی تاکہ مالی معاونت کے نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ خودکش حملہ کیس، دو سہولت کاروں کا جسمانی ریمانڈ منظور
