Baaghi TV


پاکستان میں نوجوانوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز تشویشناک، وفاقی وزیر صحت

‎وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کے درمیان ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے متعدد نئے کیسز کا تعلق منشیات کے استعمال اور غیر محفوظ جنسی رویوں سے ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
‎سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی صدارت سینیٹر عامر ولی الدین کر رہے تھے، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب صرف آلودہ سرنجوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے دیگر اسباب بھی سامنے آ رہے ہیں۔
‎انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت کو صرف اسلام آباد سے روزانہ تقریباً 35 سے 40 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں نوجوان مرد اور خواتین کی تعداد نمایاں ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال صحت عامہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
‎وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بعض نجی تقریبات اور رات کے اجتماعات میں آئس سمیت مختلف منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے، جہاں غیر محفوظ جنسی رویے بھی اختیار کیے جاتے ہیں، جو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوان اس بیماری کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔
‎مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صرف وزارت صحت کے لیے اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں، تعلیمی اداروں، والدین، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
‎انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں متعلقہ اداروں کو طلب کیا گیا اور ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بیماری کی روک تھام، آگاہی مہم اور مؤثر حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا تاکہ نوجوان نسل کو اس خطرناک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔

More posts