کراچی: کراچی کے علاقے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے مرکزی ملزم اور بین الصوبائی گروہ کے سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے قبضے سے 20 کروڑ روپے نقد رقم اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کراچی میں سرگرم بین الصوبائی ڈکیت گروہ کا سربراہ ہے، جبکہ اس کے دیگر ساتھی ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ملزم کا تعلق ضلع سوات سے ہے، تاہم وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق محمد علی عرف علی لنگڑا ماضی میں بھی بینک ڈکیتیوں، لاکر توڑنے اور طلائی زیورات و غیر ملکی کرنسی لوٹنے کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال سمیت کراچی کے گلشن اقبال، تیموریہ، سولجر بازار اور ڈیفنس تھانوں میں بھی ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد میں پیش آنے والی کیش وین ڈکیتی کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ کی ہدایت پر ایس ایس پی سینٹرل کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ دورانِ تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو واجد بھی واردات میں ملوث تھا۔
تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم نے پوری واردات کی منصوبہ بندی کی اور لوٹی گئی رقم دو مختلف گھروں میں چھپا رکھی تھی، جہاں سے پولیس نے بڑی رقم برآمد کی۔
پولیس کے مطابق یہ بین الصوبائی گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں بینک ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ واردات میں شامل دیگر ملزمان کا تعلق پاراچنار سے ہے، جو لوٹی گئی باقی رقم کے ساتھ فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری اور باقی ماندہ رقم کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
کراچی کیش وین ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ گرفتار، 20 کروڑ روپے برآمد
