اسلام آباد: امریکا کی جانب سے اقتصادی رکاوٹوں میں نرمی اور حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد طویل عرصے سے تعطل کا شکار ایران پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی۔
اس ابتدائی مرحلے پر 158 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جسے گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (GIDC) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر پاکستان روزانہ 100 ملین مکعب فٹ (MMCFD) گیس درآمد کرے گا۔ بعد ازاں جب 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن نواب شاہ تک مکمل ہو جائے گی تو گیس کی فراہمی بڑھ کر 750 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچ جائے گی، جس سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اگر منصوبے پر پیش رفت نہ کرتا تو ایران کی جانب سے بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے 18 ارب ڈالر تک کے ممکنہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جس کے پیش نظر منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت، مذاکرات میں مثبت ماحول اور پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ممکنہ رعایتوں نے اس منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور کر دی ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے پاکستان کو قدرتی گیس کی طویل مدتی اور نسبتاً سستی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے توانائی بحران میں کمی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملکی معیشت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار، تعمیر کا آغاز متوقع
