Baaghi TV

تعلیم یافتہ معاشرہ کبھی بھی معاشی یا فکری طور پر دیوالیہ نہیں ہو سکتا،خواجہ آصف

khawaja asif

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تعلیم یافتہ معاشرہ کبھی بھی معاشی یا فکری طور پر دیوالیہ نہیں ہو سکتا، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اداروں میں معیاری تعلیم کے بجائے صرف ڈگریاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اساتذہ، والدین اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم، تحقیق اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

سیالکوٹ میں ایک نجی کالج کی سالانہ کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ تقریب میں طالبات کی تعداد نمایاں ہے۔ ان کے مطابق تقریب میں تقریباً 80 فیصد طالبات اور 20 فیصد طلبہ شریک ہیں، جو خواتین کی تعلیم کے فروغ کی مثبت علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور پوری زندگی بھی علم کے حصول کے لیے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے مکمل علم حاصل کر لیا، بلکہ سیکھنے کا سفر زندگی بھر جاری رہتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے دور میں تعلیمی ادارے کم تھے لیکن علم کی وسعت اور معیار بہت بلند تھا، اور انہیں عظیم اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اساتذہ اور طلبہ کے درمیان عزت و احترام میں کمی آئی ہے، جس کی ذمہ داری اساتذہ، والدین اور طلبہ تینوں پر عائد ہوتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ نصاب ملک کی ضروریات کے مطابق نہیں اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں طالبات میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کو تبدیل کرنے میں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے سیاست پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سیاست دان خود اپنی منزل کا تعین نہیں کر پاتے، ایسے میں نوجوانوں کی رہنمائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو باہمی اختلافات کے بجائے ملکی ترقی اور قومی مفاد کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔قومی شناخت کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ آئین میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کا مقصد علاقائی شناخت کے بجائے پاکستانی شناخت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کے لیے ایسا نصاب مرتب کیا جانا چاہیے جو پنجاب سے لے کر گلگت بلتستان تک یکساں قومی شعور اور شناخت کو فروغ دے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو ابھی ترقی کی راہ میں ایک طویل سفر طے کرنا ہے، تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک نے جن اہم کامیابیوں اور معرکوں میں کامیابی حاصل کی، ان کی مثال گزشتہ 78 برس کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "معرکۂ حق” کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی اور ایک ایسا ملک جسے کبھی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج امن کے فروغ کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں قیادتوں نے خطے کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

More posts