Baaghi TV

جیوانی چیک پوسٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ماضی کا ” لاپتا شخص” ،بی وائی سی،بی ایل اے کا گٹھ جوڑ

بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے نام پر چلائے جانے والے مبینہ انسانی بحران کے پیچھے چھپے اصل کردار، کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور بیرونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کا سنسنی خیز پردہ فاش ہو گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع اور حالیہ عدالتی فیصلوں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جن افراد کو مظاہروں اور لانگ مارچز میں ’مظلوم لاپتہ شہری‘ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، وہ دراصل کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے انتہائی خطرناک خودکش اسکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے سرگرم دہشت گرد اور کمانڈرز نکلے۔ جیوانی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کا مبینہ سرغنہ عطااللہ ولد گاجی خان، جو ضلع آواران کا رہائشی ہے، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم بی ایل اے کا سرگرم کمانڈر ثابت ہوا ہے۔

حیرت انگیز طور پر عطااللہ کا نام ماضی میں ماہ رنگ لانگو کی جانب سے ’پیس، جسٹس اینڈ ایکول رائٹس‘ (پاانک) نامی تنظیم کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا،ماہ رنگ لانگو نے متعدد احتجاجی مظاہروں میں اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس کی دہشتگردانہ کارروائیوں نے اس جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو ان کی وحشیانہ کارروائیوں، سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے۔امریکا نے سال 2025 میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر ’فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ یہ تنظیمیں بھارتی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں، جنہیں افغانستان میں قائم نیٹ ورکس کے ذریعے فنڈنگ، جدید ترین ہتھیار اور تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

بلوچستان کے علاقے جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے بعد لاپتا افراد کی فہرستوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عطا اللہ ولد گاجی خان، جو ضلع آواران کے علاقے ماشکئی کا رہائشی بتایا جا رہا ہے، کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے فروری 2025 سے لاپتا قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہی شخص جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھا۔ بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC)، بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) اور PAANK شامل ہیں، لاپتا افراد کے معاملات کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی شناخت چھپانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

نادیہ بلوچ، سمیع دین، حامد میر، منیزے جہانگیر، ایمنسٹی اور دیگر اب احتجاج کے لیے باہر نہیں آئیں گے اور نہ ہی ایک لفظ بولیں گے کہ وہ دہشت گرد ہے پھر بھی جب ریاست ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ سب گدھ نکل آتے ہیں۔

عطا اللہ ولد گاجی خان کو ماضی میں مہرنگ بلوچ کی جانب سے ” لاپتا شخص”کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جبکہ اس کا نام اور تصویر متعدد بی وائی سی احتجاجی مظاہروں میں بھی بارہا آویزاں کی گئی۔تاہم، چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ بی ایل اے کا ایک سرگرم کمانڈر تھا اور اسی حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔دہشتگرد تنظیم کے کمانڈر عطااللہ کو غیر سرکاری تنظیم ” پانک ” نے اپنی مسنگ لسٹ کے 122 نمبر میں شامل کیا تھا جو متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔

More posts