اسلام آباد: کام کی جگہ ہراسانی اور ملازمت سے متعلق دیگر مسائل پر مردوں کی جانب سے بھی وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی سے رجوع کرنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران درج ہونے والی مجموعی شکایات میں تقریباً 40 فیصد شکایات مردوں کی جانب سے دائر کی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق ایک سال کے دوران وفاقی محتسب کے پاس 1,290 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,104 شکایات نمٹا دی گئیں، جس سے ادارے کی جانب سے کیسز کے بروقت ازالے کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 521 مردوں نے کام کی جگہ ہراسانی، امتیازی سلوک اور ملازمت سے متعلق دیگر شکایات وفاقی محتسب کے سامنے پیش کیں۔ یہ تعداد مجموعی شکایات کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مرد بھی اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر رہے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق مردوں کی سب سے زیادہ 231 شکایات وفاقی محتسب کے اسلام آباد ہیڈ آفس میں درج کی گئیں۔اس کے بعد پنجاب دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 222 مردوں نے شکایات درج کرائیں۔ پشاور دفتر میں 42، کراچی میں 24 جبکہ کوئٹہ میں 2 مردوں نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران 769 خواتین نے بھی وفاقی محتسب کے پاس شکایات درج کرائیں۔ان میں سے 496 شکایات اسلام آباد جبکہ 154 شکایات پنجاب سے موصول ہوئیں۔ دیگر شکایات ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آئیں۔
وفاقی محتسب کے حکام کے مطابق تمام شکایات صرف ہراسانی سے متعلق نہیں تھیں بلکہ متعدد درخواستیں ملازمت کے دیگر حقوق سے بھی متعلق تھیں۔ان شکایات میں بعض مرد ملازمین نے بچے کی پیدائش پر پدری رخصت نہ دیے جانے کے خلاف بھی درخواستیں دائر کیں، جبکہ دیگر کیسز میں ملازمت سے متعلق مختلف انتظامی اور قانونی نوعیت کے معاملات شامل تھے۔دستاویزات کے مطابق ایک سال کے دوران موصول ہونے والی 1,290 شکایات میں سے وفاقی محتسب نے 1,104 کیسز نمٹا دیے، جو ادارے کی جانب سے شکایات کے بروقت ازالے کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کام کی جگہ ہراسانی اور ملازمین کے حقوق سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب مرد و خواتین دونوں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی فورمز سے رجوع کرنے میں زیادہ اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔
