Baaghi TV

جیوانی حملہ،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور "لاپتہ”بازیاب ہو گیا،جہنم واصل

گوادر: بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد حملہ آور کی شناخت سے متعلق سامنے آئی ہے،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور لاپتہ بازیاب ہو گیا

پوسٹ پرحملہ کرنے والا والا خودکش حملہ آور عطا اللہ ولد گاجی خان تھا، جسے "جبری لاپتہ شخص” قرار دے کر ریاست مخالف مہمات میں بطور مثال پیش کیا جاتا رہا۔ 3 جولائی 2026ء بروز جمعہ شام تقریباً 6 بج کر 32 منٹ پر گوادر کے علاقے جیوانی کے پانوان سیکٹر میں واقع پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر بارود سے بھرے مزدا ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا،
ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد حملہ آور کے جسم کے اعضا اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی شناخت عطا اللہ ولد گاجی خان کے نام سے ہوئی عطا اللہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کے کیمپ سے وابستہ تھا۔

ادھر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے مجید بریگیڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عطا اللہ کی تصویر ماضی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور PAANK کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھی۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عطا اللہ کو 27 فروری 2025ء کو ضلع آواران سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ حملہ آور کی شناخت سامنے آنے کے بعد ان دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن کے تحت بعض افراد کو لاپتہ قرار دے کر مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کی مہمات کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

بعض کالعدم تنظیموں کے سہولت کار اور ہمدرد نیٹ ورکس نوجوانوں کی بھرتی، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ماضی میں بھی بعض دہشت گرد حملوں کے بعد حملہ آوروں کے بارے میں ایسے دعوے سامنے آئے جنہیں پہلے مختلف حلقوں کی جانب سے "لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کیا گیا تھا،

More posts