بھارت کے غیرقانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی اِضافی سینکڑوں کمپنیوں اور ایلیٹ کمانڈو یونٹس کی تعیناتی کے علاوہ نگرانی کا جدید نظام قائم کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاترا 3 جولائی کو شروع ہو گی اور 28 اگست تک جاری رہے گی۔ یاترا کے راستے پر ہزاروں پیراملٹری اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ 4 سوسے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں ۔
فوج ، سی آر پی ایف ، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے ساتھ ساتھ سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تقریباً 700 کمپنیاں جموں سری نگر شاہراہ ، بیس کیمپوں اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات کی گئی ہیں۔بھارتی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسلسل فرضی مشقیں کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 3 لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ہر برس لاکھوں ہندو یاتریوں کی مقبوضہ وادیِ کشمیر میں آمد سے یہاں کا قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت یاترا کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے اور تمام وسائل بروئے کار لاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کر رہا ہے۔ بھارتی انتظامیہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اکثر جمعہ کے روز سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو اس میں نمازِ جمعہ کے اہم دینی فریضے سے روک دیتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے بڑے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔
