ہنگری پولیس نے 30 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسپتال اور متروک قبرستانوں سے انسانی جسم کے اعضا جمع کرکے اپنے گھر میں محفوظ رکھتا تھا۔
ہنگری کے نیشنل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم کو 17 جون کو دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ وہ انسانی اعضا اپنے گھر اور اسپتال میں ذخیرہ کر رہا ہے۔ ملزم ایک اسپتال میں وارڈ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔پولیس نے ملزم کے اپارٹمنٹ پر چھاپے کے دوران کئی انسانی کھوپڑیاں، ایک مکمل نچلی ٹانگ، ایک ہاتھ اور انسانی چہرے کی جلد سے تیار کردہ چہرے کا نمونہ برآمد کیا۔ اس کے علاوہ ایک سوٹ کیس میں مزید ہڈیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔تحقیقات کے دوران ایک مرتبان میں محفوظ دل بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں ماہرین یہ تعین کر رہے ہیں کہ آیا وہ انسانی ہے یا کسی جانور کا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش انسانی اعضا جمع کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے انسانی جسم کے اعضا میں غیرمعمولی دلچسپی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ بعض انسانی اعضا سے کھانا تیار کر کے کھا چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو انسانی باقیات کے غیرقانونی استعمال کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اناٹومی اور پیتھالوجی کا شوقین ہے اور جانوروں کی چیر پھاڑ بھی کرتا رہا ہے۔تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ ملزم نے کچھ اعضا اپنے اسپتال کے کام کے دوران حاصل کیے جبکہ بعض انسانی باقیات ہنگری اور سلواکیہ کے متروک قبرستانوں سے قبریں کھود کر نکالی گئیں۔
پولیس نے ملزم کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ تمام برآمد شدہ انسانی باقیات فرانزک ماہرین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مقدمے میں مزید سنگین الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
