Baaghi TV

ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

Trump’s Gulf allies fear his Iran agreement is a ‘disastrous turning point’

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک ایک نئے سکیورٹی اور سفارتی دوراہے پر کھڑے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ نے نہ صرف خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے امریکہ کو اپنا سب سے اہم سٹریٹجک اتحادی تصور کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات میں ایک زیادہ "لین دین” پر مبنی سوچ نمایاں ہونے لگی تھی۔ ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بارے میں کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر سعودی قیادت زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتی، جسے خلیجی ممالک میں مختلف انداز سے دیکھا گیا۔

2019 میں سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملے کے بعد، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا، خلیجی ممالک میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ امریکہ کس حد تک ان کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یہی خدشات حالیہ ایران جنگ کے بعد مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو براہ راست متاثر کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین،سعودی عرب اور کویت ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خلیجی قیادت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ کی سکیورٹی وابستگیاں برقرار ہیں۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ہر اہم فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ابھرنے والا نیا معاہدہ خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں جیسے اہم مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کرتا۔مزید برآں، معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی میں ایران کو ایک باضابطہ کردار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات اور سمندری تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کئی حلقے اسے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے خلیجی ممالک کی مالی معاونت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اب تک سعودی عرب اور دیگر ریاستوں نے اس حوالے سے واضح عزم کا اظہار نہیں کیا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ قطر نے دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے متبادل شراکت داروں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ترکی کو اس سلسلے میں ایک ممکنہ دفاعی سپلائر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کئی ریاستیں اپنی مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام پر غور کر سکتے ہیں جس میں ایران کے ساتھ "عدم جارحیت معاہدہ” بھی شامل ہو۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے کسی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک اپنی دفاعی طاقت اور مشترکہ سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اب نہ صرف ایران بلکہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق امریکہ پر مکمل انحصار کی پالیسی کمزور پڑ رہی ہے اور خلیجی ریاستیں مستقبل میں زیادہ خودمختار سکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف سفارت کاری کافی نہیں ہوگی بلکہ دفاعی تیاری، علاقائی تعاون اور مؤثر بازدار قوت بھی ناگزیر ہوگی۔ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

More posts