اسلام آباد: پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر عوامی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ماہرین، والدین اور مختلف سماجی تنظیمیں اس معاملے کو بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما سے جوڑتے ہوئے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد اکثر مذہبی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہوتا ہے، جبکہ بیرونی ثقافتی اثرات خاندانی نظام اور معاشرتی روایات کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں میں مسلسل اسکرولنگ کی عادت علمی اور فکری صلاحیتوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی لت اضطراب، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ پرتشدد مواد کے باعث تشدد کو معمول سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے انتہاپسندی اور نقل پر مبنی خطرناک رویوں کے فروغ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے تیزی سے پھیلاؤ میں بھی سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس سے سماجی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بچوں اور کم عمر افراد کے جنسی استحصال اور نامناسب مواد تک رسائی کے خدشات کو بھی پابندی کے حق میں اہم دلائل قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط متعارف کرا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا، جبکہ برطانیہ، ملائیشیا اور یونان سمیت کئی ممالک اس حوالے سے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ فرانس، اسپین، ڈنمارک، اٹلی، ترکیہ، آسٹریا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی متعلقہ قوانین پر غور یا قانون سازی کا عمل جاری ہے۔
پاکستان میں اس تجویز پر عملدرآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر ملکی ملکیت ہیں اور ان کے مقامی دفاتر موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق مؤثر قانون سازی، نگرانی کے جدید نظام اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کے بغیر پابندی پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔تجویز کے تحت والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی، تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ، مذہبی و سماجی اداروں کی آگاہی مہمات اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عمر کی بنیاد پر فلٹرنگ جیسے اقدامات اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ اور صحت مند معاشرتی ماحول کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، جس پر حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر غور کرنا چاہیے۔
