یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں شدید گرمی کے باعث پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں ہلاک ہو گئی ہیں جبکہ لاشیں ٹھکانے لگانے کی خدمات بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
فرانس کے علاقے پیدیلا لوائر کے ایک پولٹری فارمر کلیمنٹ بلانشارڈ کے مطابق چند روز کے دوران ان کے تقریباً 700 مرغے مر گئے، جبکہ عام حالات میں روزانہ صرف ایک یا دو مرغیاں ہلاک ہوتی تھیں۔دیگر علاقوں میںبھی مختلف پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں شدید گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں، حکام متاثرہ علاقوں میں مردہ پرندوں کو فارموں پر ہی دفنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔دوسری جانب برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث متعدد تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکڑوں اسکول مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں جبکہ طلبہ کو گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں واقع کوئین الیگزینڈرا اسپتال نے کولنگ سسٹم میں خرابی کے بعد "کریٹیکل انسیڈنٹ” کا اعلان کر دیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق خرابی سے آپریشن تھیٹرز، تشخیصی اسکیننگ اور دیگر اہم طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں، تاہم ہنگامی اور ضروری طبی سہولیات بدستور جاری ہیں۔
ادھر فرانس میں گرمی کی شدت کے باعث 50 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 48 افراد ڈوبنے کے واقعات اور دو کم سن بچے گرم گاڑی میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ بعض علاقوں میں 44 ڈگری سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی تاریخ کے گرم ترین دنوں میں شمار ہو رہا ہے۔ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
