: اسپین کے جنوبی خودمختار علاقے اندلس کے صوبے المیریا میں بھڑکنے والی خوفناک جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جہاں اب تک کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 19 افراد لاپتا ہیں۔
حکام کے مطابق متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں فائر فائٹرز، فوجی اہلکار اور فضائی امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔اندلس کے صدر خوانما مورینو نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہوتے ہوئے کہا کہ آگ کے نتائج "انتہائی تباہ کن” ہیں۔ ان کے مطابق تمام سرکاری ادارے متاثرین کی مدد اور آگ پر جلد از جلد قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس المناک واقعے میں اب تک 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 19 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ مزید برآں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار کی حالت انتہائی نازک ہے۔
صدر خوانما مورینو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ ان کی اسپین کے بادشاہ فیلپ ششم سے بات ہوئی، جنہوں نے متاثرین کے لیے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔مورینو نے کہا کہ بادشاہ نے اندلس کے عوام کے لیے محبت، یکجہتی اور تعزیت کا پیغام دیا، جس پر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح متاثرہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق المیریا کی یہ آگ اسپین کی تاریخ کی تیسری سب سے ہلاکت خیز جنگلاتی آگ قرار دی جا رہی ہے۔سن 1979 میں شمال مشرقی ساحلی علاقے لوریٹ ڈی مار میں لگنے والی جنگلاتی آگ میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو ملک کی تاریخ کی بدترین آتش زدگی سمجھی جاتی ہے۔اس کے بعد 1984 میں کینری جزائر کے لا گومیرا میں لگنے والی آگ میں 20 افراد جان سے گئے، جبکہ 2005 میں ریبا دے سائیلیسز کے علاقے میں آگ لگنے سے 11 فائر فائٹرز ہلاک ہوئے تھے۔ موجودہ حادثہ بھی اسی تعداد کے باعث تاریخ کی تیسری بدترین آتش زدگی میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اندلس کے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ انتونیو سانز کابیلّو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت غیر ملکی شہری ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی، تاہم بعض افراد نے اپنی گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے باعث وہ آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔انہوں نے بتایا کہ ایک گاڑی سے چار افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں اور گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں جانب ہونے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد برطانوی شہری تھے۔
آگ کا آغاز لاس گیارڈوس نامی قصبے کے قریب ہوا، جہاں تقریباً 3 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ یہ علاقہ برطانوی تارکین وطن اور سیاحوں میں خاصا مقبول سمجھا جاتا ہے۔ریٹائرڈ برطانوی شہریوں سمیت متعدد غیر ملکی خاندان اس علاقے میں مستقل سکونت رکھتے ہیں، جس کے باعث حکام کو خدشہ ہے کہ متاثرین میں غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
آگ پر قابو پانے کے لیے 150 سے زائد فائر فائٹرز، 220 ہسپانوی فوجی اہلکار، ہیلی کاپٹرز اور آگ بجھانے والے خصوصی طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ہنگامی اداروں کے مطابق اب تک کم از کم ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد جلی ہوئی گاڑیوں سے لاشیں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین گزشتہ چند برسوں سے شدید گرمی کی لہروں، کم بارش اور تیز ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔رواں موسمِ گرما میں اسپین کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ حالیہ گرمی کی شدت کے باعث گزشتہ ماہ ایک ہزار سے زائد اضافی اموات بھی ریکارڈ کی گئی تھیں۔یورپی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اور خشک موسم جنگلاتی آگ کی شدت اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ المیریا میں پیش آنے والی تباہی نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز، سیکیورٹی فورسز اور فوج کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ آگ پر جلد قابو پایا جا سکے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکام کی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
