Baaghi TV

نام نہاد جمہوریت ،بھارت میں لاکھوں افراد ووٹ کے حق سے محروم

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں ووٹر لسٹوں کی حالیہ بڑی "صفائی” نے ایک سنگین سیاسی اور انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری اچانک اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو گئے ہیں، اور کئی افراد کو اس کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حالیہ انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں سے تقریباً 90 لاکھ سے زائد نام حذف کیے گئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 24 لاکھ افراد فوت ہو چکے تھے، تاہم باقی لاکھوں افراد کی اہلیت پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔مقامی تنظیم "سبار انسٹیٹیوٹ” کے مطابق تقریباً 67 لاکھ نام ایسے ہیں جن کے بارے میں واضح نہیں کہ انہیں کس بنیاد پر خارج کیا گیا۔مرشدآباد کے 62 سالہ سابق فوجی سادرے عالم بھی ان متاثرین میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے حق میں درجنوں سرکاری دستاویزات پیش کیں جن میں خاندانی زمین کے کاغذات، فوجی خدمات کا ریکارڈ اور پرانے انتخابی اندراجات شامل تھے، مگر ان کی اپیل مسترد کر دی گئی۔سادرے عالم کا کہنا تھا “مجھے بتایا گیا کہ میرے ریکارڈ میں 15 سال کے عمر کے فرق کی ‘منطقی غلطی’ ہے۔ کیا میں اپنی ماں کا بیٹا نہیں ہوں؟ یہ کیسا سوال ہے؟”

اسی طرح 88 سالہ سُبرابھدرا سین، جن کا خاندان بھارت کے آئین کی تشکیل سے جڑا ہوا ہے، اور ان کی اہلیہ دیپا سین بھی ووٹر لسٹ سے بغیر وضاحت کے خارج کر دی گئیں۔ ان کے مطابق انہوں نے تعلیمی اسناد، پنشن دستاویزات اور پرانا پاسپورٹ بھی جمع کرایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں حذف کیے گئے ناموں میں تقریباً 34 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ ریاست کی آبادی میں ان کا تناسب 27 فیصد ہے۔مقامی سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ کارروائی خاص طور پر مسلم ووٹروں کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک شہری نے کہا “ہمیں نہیں بتایا جاتا کہ ہمیں کیوں نکالا گیا۔ لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹ کی یہ صفائی جعلی اندراجات، وفات پانے والے افراد اور غلطیوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ انتخابی نظام کی شفافیت برقرار رہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اثر میں آ کر کام کر رہا ہے اور یہ اقدام سیاسی فائدے کے لیے کیا جا رہا ہے۔بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کر رہی، تاہم وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ “غیر قانونی تارکین وطن کو انتخابی عمل میں فیصلہ سازی کا حق نہیں ہونا چاہیے”۔

مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں میں اس کارروائی نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ بعض شہریوں کو خدشہ ہے کہ ووٹ کے حق سے محرومی کے بعد ان کی شہریت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔مرشدآباد کی رہائشی نورفا بی بی نے کہا “ہمیں ڈر ہے کہ کل ہماری شہریت بھی چھین لی جائے گی۔ کیا وہ ہمیں واپس دیں گے یا ہم آہستہ آہستہ ختم کر دیے جائیں گے؟”بھارت کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نکالے گئے افراد کو اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم انتخابی شیڈول کو نہیں روکا جائے گا۔کئی افراد کی اپیلوں کے بعد کچھ شہریوں کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں، لیکن لاکھوں افراد اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

More posts