Baaghi TV

سابق گلوکار کو جنسی جرائم پر 14 سال قید کی سزا

لندن کی ایک عدالت نے برطانوی بینڈ سپنڈاؤ بیلے کے سابق فرنٹ مین اور اسٹیج اداکار راس ڈیوڈسن کو متعدد سنگین جنسی جرائم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم نے 2013 سے 2019 کے درمیان چھ مختلف خواتین کے خلاف ریپ، جنسی زیادتی، اقدامِ زیادتی اور خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے جیسے جرائم کیے۔

38 سالہ راس ڈیوڈسن، جو اسٹیج نام “روز ویلڈ” سے بھی پہچانا جاتا ہے، ایک وقت میں مشہور راک میوزیکل وی ول راک یو میں بھی اداکاری کر چکا تھا اور بعد ازاں مختصر عرصے کے لیے اسپینڈو بیلے کے مرکزی گلوکار کے طور پر بھی سامنے آیا۔عدالت میں ہونے والے دو علیحدہ ٹرائلز میں جیوری نے ملزم کو دو ریپ، ایک اقدامِ ریپ، تین جنسی زیادتیوں اور دو بار خفیہ نگرانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔پراسیکیوشن کے مطابق راس ڈیوڈسن نے بعض واقعات کی ویڈیوز خود بنائیں، جن میں متاثرہ خواتین “انتہائی بے ہوشی یا گہری نیند” کی حالت میں تھیں اور انہیں کسی قسم کا احساس نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ ویڈیوز بعد میں پولیس تفتیش کے دوران سامنے آئیں۔

پراسیکیوٹر رچرڈ ہرنڈن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک ایسا شخص تھا جو خود کو “حق دار” سمجھتا تھا اور اگر اسے اپنی مرضی نہ ملتی تو وہ جنسی تشدد اور زیادتی پر اتر آتا تھا۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راس ڈیوڈسن کو عوام میں ایک “دلکش اور کامیاب شخصیت” کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر شہرت ملنے کے بعد وہ خواتین کے ساتھ “انتہائی قابلِ مذمت رویہ” اختیار کرتا رہا۔سماعت کے دوران متاثرہ خواتین بھی عدالت میں موجود تھیں، جن کی ذہنی و جذباتی حالت کے بارے میں تفصیلی بیانات پڑھے گئے۔

ایک متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا “اس زیادتی کے بعد میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ میں اب پہلے جیسا اعتماد محسوس نہیں کرتی۔ روزمرہ حالات بھی خوفناک لگتے ہیں اور میں مسلسل ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہوں۔”ایک اور خاتون نے بتایا کہ وہ اب ڈپریشن کی ادویات پر ہیں اور پہلے کی نسبت بہت زیادہ تنہائی پسند اور محتاط ہو گئی ہیں۔

ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ راس ڈیوڈسن کو طویل عرصے تک “شدید ADHD” کی تشخیص نہیں ہوئی تھی، اور وہ نشہ آور اشیاء اور الکحل کے ذریعے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ وکیل کے مطابق اب اسے اپنے جرائم پر “حقیقی ندامت” ہے اور وہ علاج بھی کر رہا ہے۔عدالت نے تمام شواہد اور گواہیوں کو دیکھتے ہوئے راس ڈیوڈسن کو مجموعی طور پر 14 سال قید کی سزا سنائی۔ پراسیکیوشن نے متاثرہ خواتین کی “بہادری” کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر یہ مقدمہ ثابت کرنا ممکن نہ ہوتا۔

More posts