لندن کی ایک عدالت نے ایک ناکام پناہ گزین کو اسرائیلی سفارتخانے میں داخل ہو کر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے۔
34 سالہ کویت میں پیدا ہونے والے شخص عبداللہ البدری کو گزشتہ سال مئی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مغربی لندن کے علاقے کینسنگٹن میں واقع اسرائیلی سفارتخانے کی باڑ پھلانگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے پاس تقریباً 10 سینٹی میٹر لمبے دو چاقو موجود تھے۔جیوری کو بتایا گیا کہ ملزم سفارتخانے میں داخل ہو کر غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ واقعے کے بعد اسے مسلح پولیس نے فوری طور پر قابو میں کر لیا۔عدالت نے جمعہ کے روز تقریباً 14 گھنٹے کی غور و خوض کے بعد اسے دہشت گردی کی تیاری اور خطرناک ہتھیار رکھنے کا مجرم قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق ملزم 2021 اور اپریل 2025 میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا تھا اور اس کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی۔ وہ خود کو کویت میں انسانی حقوق کی سرگرمیوں پر مظالم کا شکار قرار دیتا رہا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ وہ کالے چشمے اور سرخ و سفید رومال میں تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چل کر سفارتخانے تک پہنچا۔ بعد ازاں اس نے باڑ پر چڑھنے کی کوشش کی جہاں ڈپلومیٹک پروٹیکشن کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے نیچے گرا لیا۔پولیس کے مطابق اس کے قبضے سے دو چاقو اور ایک مبینہ "وصیت نامہ” بھی برآمد ہوا۔ گرفتار ہونے کے بعد اس نے کہا کہ یہ "صرف ایک پیغام” تھا اور غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج تھا۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنی شناخت چھپائی اور سیاسی مقصد کے لیے تشدد کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار تھا۔
