امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کی ایک بڑی ریٹائرمنٹ کمیونٹی میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تصادم سے جلدی پیچھے نہیں ہٹے گا، کیونکہ ایسا کرنے سے “چند سال بعد وہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے”۔
اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے امریکی معیشت اور اپنی انتظامیہ کی جانب سے بزرگ شہریوں کے لیے اقدامات پر بات کی، تاہم وہ حسبِ معمول موضوع سے ہٹ کر ایران کی صورتحال پر بھی گفتگو کرنے لگے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کسی ایسے فیصلے کا خطرہ نہیں لے گا جس سے مستقبل میں دوبارہ بحران جنم لے۔
ادھر امریکہ میں سیاسی صورتحال بھی کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ ہفتے میں اوسط پٹرول کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح بھی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔دوسری جانب اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری سرگرمیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس صورتحال نے ایران کو مالی طور پر بھی نقصان پہنچایا ہے، اور بعض اندازوں کے مطابق اسے اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
خطاب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے باہر پہلی عوامی مصروفیت تھی، جو گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر ہونے والے ایک ناکام حملے کے بعد ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد صدر اور دیگر حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانا بتایا گیا۔
