ایک تاریخ، ایک جدوجہد، پھر کشمیریوں کے درمیان اختلاف کیوں؟
دھرنوں کے بجائے مکالمہ: مہاجر کشمیریوں کے حقوق اور قومی یکجہتی کا تقاضا
تجزیہ شہزاد قریشی
آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہونے والے احتجاج، جلسے، جلوس اور دھرنوں نے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے حقِ نمائندگی اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں کشمیری اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہو کر پاکستان آئے۔ ان خاندانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں اور پاکستان میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ آج ان مہاجر خاندانوں کی تیسری، چوتھی بلکہ بعض مقامات پر پانچویں نسل بھی پاکستان میں آباد ہے۔ ان مہاجرین نے نہ صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے اور ان نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار برسوں سے آئینی اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے تو پھر آج اس پر اعتراضات کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری خاندانوں کو آج بھی "مہاجر کشمیری” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مقامی آبادی بھی انہیں اسی شناخت سے جانتی ہے، حالانکہ کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی شناخت آج بھی کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے بعض حلقے پاکستان میں آباد مہاجرین کی سیاسی نمائندگی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انہیں اپنے مؤقف کی معقول اور منطقی وضاحت کرنی چاہیے۔ اختلاف رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، لیکن ایسے معاملات کا حل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کا مقدمہ ہمیشہ اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری ہوں یا پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر، دونوں ایک ہی تاریخ، ایک ہی جدوجہد اور ایک ہی مقصد سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ایسے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں باہمی احترام، سیاسی بصیرت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ ادارے ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ دھرنوں، احتجاجوں اور سیاسی کشیدگی سے نہ صرف داخلی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منقسم تاثر سامنے آتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے اور تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے کے وجود، قربانیوں اور حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔
