رشتے خون سے نہیں، رویے سے بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں "بیٹی” اور "بہو” دو ایسے رشتے ہیں جنہیں اکثر ایک پلڑے میں تولا جاتا ہے، مگر دونوں کی جگہ، ذمہ داری اور احساس الگ ہے۔ فرق برا نہیں، بس سمجھنے کا ہے۔
بیٹی گھر کی جان ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوتی ہے، پلتی ہے، اس کی ہنسی سے دیواریں گونجتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے وہ امانت ہے۔ بیٹی سے توقع صرف محبت اور مان کی ہوتی ہے۔ غلطی کرے تو ماں سمجھاتی ہے، باپ ڈانٹ کر بھول جاتا ہے۔ اسے کھانا بنانا نہ آئے تو بھی "سیکھ جائے گی” کہا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم، شوق، مرضی سب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی گھر چھوڑ کر جاتی ہے تو پورا گھر خالی لگتا ہے، مگر اس کی واپسی پر دروازے کھول دیے جاتے ہیں، حساب نہیں مانگا جاتا۔
بہو دوسرے گھر سے آتی ہے۔ وہ اپنی ماں، اپنی عادتیں، اپنا بچپن چھوڑ کر ایک اجنبی گھر، اجنبی لوگوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرتی ہے۔ اس سے توقع ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ کھانا، صفائی، ساس سسر کی خدمت – سب اس کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ غلطی ہو جائے تو "پرائے گھر کی ہے” کہہ کر یاد دلا دیا جاتا ہے۔ اسے اپنا بننے کے لیے خود کوثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کی محبت کو بھی "فرض” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بہو جب ماں بنتی ہے تو بھی اسے "دوسروں کی امانت” سمجھا جاتا ہے۔
فرق کی جڑ سوچ میں ہے۔ بیٹی کو ہم "اپنا” سمجھ کر پالتے ہیں، بہو کو "اپنانا” پڑتا ہے۔ بیٹی کی آزادی کو مان دیتے ہیں، بہو کی آزادی کو "بدتمیزی” سمجھ لیتے ہیں۔ بیٹی روٹھے تو مناتے ہیں، بہو روٹھے تو "نخرے” کہہ دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔ جس محبت، برداشت اور موقع کی توقع ہم اپنی بیٹی کے لیے رکھتے ہیں، وہی بہو کو دیں تو فرق خود بخود مٹ جائے گا۔ اور جس عزت، قربانی اور ذمہ داری کی امید ہم بہو سے رکھتے ہیں، وہی سلوک اگر ہم اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے کریں تو رشتے مضبوط ہو جائیں۔
نہ بیٹی کم ہے نہ بہو زیادہ۔ دونوں عورت ہیں، دونوں بیٹیاں ہیں۔ ایک نے گھر دیا، دوسری نے گھر سنبھالا۔ اگر ساس بہو کو بیٹی سمجھ لے اور بہو ساس کو ماں، تو "فرق” لفظ ہی ڈکشنری سے نکل جائے گا۔ رشتے تب ہی خوبصورت ہیں جب برابری ہو۔
