Baaghi TV

اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ

اللہ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے۔ ہر بچہ والدین کے لیے ایک امانت ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھروں میں "سب برابر ہیں” کہنے کے باوجود عمل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ کوئی بیٹا ہے تو لاڈلا، کوئی بیٹی ہے تو خاموش۔ کوئی بڑا ہے تو سمجھدار، کوئی چھوٹا ہے تو "ابھی بچہ ہے”۔ یہ فرق رشتوں کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔

فرق کیوں پڑتا ہے؟
بیٹا بیٹی کا فرق*: ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے والدین بیٹے کو "گھر کا وارث” اور بیٹی کو "بوجھ” سمجھتے ہیں۔ بیٹے کی تعلیم، موبائل، آزادی سب کچھ۔ بیٹی پر پہرے۔ نتیجہ یہ کہ بیٹی دل میں ایک خلا لے کر بڑی ہوتی ہے۔
ہونہار اور کمزور بچہ جو بچہ پڑھائی میں تیز ہو اس کی تعریفیں، تحفے، توجہ۔ جو تھوڑا کمزور ہو اسے "ناکام” کا ٹائٹل۔ والدین بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کا دماغ، صلاحیت اور رفتار الگ ہے۔
بڑا اور چھوٹا بڑے بچے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ "سمجھوتہ” کرے۔ چھوٹے کو ہر چیز معاف۔ بڑا بچہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے کہ مجھ سے ہی سب قربانی کیوں؟
شکل و صورت اور مزاج جو بچہ زیادہ میٹھا بولے یا خوبصورت ہو اسے زیادہ توجہ۔ شرمیلا یا سنجیدہ بچہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔

فرق کے نقصانات کیا ہیں؟
فرق رکھنے سے بچے کے اندر حسد، نفرت اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، دوست نہیں رہتے۔ جس بچے کو کم اہمیت ملے وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ بڑے ہو کر یہی بچے والدین سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں "آپ نے کبھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔

گھر کا ماحول ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک گھر میں کئی "خیمے” بن جاتے ہیں۔ والدین بڑھاپے میں روتے ہیں کہ اولاد متحد نہیں، مگر بیج انہوں نے خود بوئے ہوتے ہیں۔

اسلام اور انصاف کا حکم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو”۔ تحفہ ہو یا محبت، ڈانٹ ہو یا شاباش، پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہر بچے کو الگ فطرت دی ہے۔ ہمارا کام موازنہ کرنا نہیں، ہر ایک کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔

حل کیا ہے؟
ہر بچے کو الگ پہچان دیں کسی سے دوسرے کا موازنہ نہ کریں۔ "دیکھو تمہارا بھائی کتنا اچھا ہے” جیسے جملے زہر ہیں۔
وقت بانٹیں ہر بچے کے ساتھ روز 10 منٹ اکیلے بیٹھیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے "خاص” محسوس کروائیں۔
ضرورت کے مطابق دیں، محبت برابر رکھیں ہو سکتا ہے ایک کو ٹیوشن کی ضرورت ہو، دوسرے کو کھیل کے جوتے۔ خرچہ الگ، مگر عزت اور توجہ برابر۔
اپنی سوچ بدلیں بیٹا بیٹی، بڑا چھوٹا، گورا کالا سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ فرق صرف ہمارے دل میں ہوتا ہے۔

نتیجہ
والدین کا انصاف ہی اولاد کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر گھر میں عدل ہوگا تو باہر معاشرہ بھی سنور جائے گا۔ اولاد کو وراثت میں جائیداد نہیں، ایک دوسرے کا بھروسہ دے کر جائیں۔ کیونکہ جس گھر میں فرق ہوتا ہے وہاں برکت نہیں رہتی۔

More posts