فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی
قطر کی معاونت سے پاک-امریکہ-ایران خفیہ رابطے کامیاب: پاکستان برسوں بعد عالمی تنازعے میں فریق کے بجائے ‘سفارتی پل’ بن کر ابھر آیا
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ کاری، پیغامات کی ترسیل اور بیک ڈور سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی مختلف مراحل میں متحرک رہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا، جبکہ محسن نقوی ایرانی قیادت تک خصوصی پیغامات لے کر گئے۔ اسحاق ڈار سفارتی سطح پر پاکستان کے رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کا حصہ رہے۔
پاکستان نے ثالث سے زیادہ ایک "Facilitator” کا کردار ادا کیا۔ یعنی یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ معاہدہ صرف پاکستان کی وجہ سے ہوا، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کردار معمولی تھا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے موجود تھے اور دونوں فریق اسے نسبتاً قابلِ قبول سمجھتے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار غالباً سب سے نمایاں رہا کیونکہ حساس سکیورٹی اور اسٹریٹیجک معاملات میں فوجی سطح کے رابطے بعض اوقات روایتی سفارت کاری سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ محسن نقوی نے سیاسی اور خصوصی سفارتی پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا، جبکہ اسحاق ڈار نے سفارتی اور حکومتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو آگے بڑھایا۔ البتہ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ قطر نے بھی اس عمل میں نہایت اہم اور بعض مراحل میں شاید زیادہ مؤثر کردار ادا کیا، خصوصاً آخری مرحلوں میں۔ اگر یہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوگا، کیونکہ برسوں بعد پاکستان پہلی مرتبہ کسی بڑے بین الاقوامی تنازعے میں صرف فریق نہیں بلکہ "پل” کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ معاہدہ مستقل امن کی طرف جاتا ہے یا محض ایک عارضی مفاہمت ثابت ہوتا ہے۔
