Baaghi TV

امریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ متعدد جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب

‎امریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ متعدد تجارتی اور تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایران سے منسلک 11 جہازوں میں سے 9 نے امریکی پابندیوں اور ممکنہ ناکہ بندی سے پہلے ایرانی سمندری راستہ استعمال کرتے ہوئے اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا۔
‎رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والا ایک بڑا آئل ٹینکر بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات سے لدا ایک جہاز اور مائع پیٹرولیم گیس (LPG) لے جانے والے دو بڑے ٹینکر بھی محفوظ طریقے سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔
‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث اس آبی راستے کی سلامتی عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ جہازوں کی بروقت روانگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ممکنہ پابندیوں یا فوجی اقدامات سے پہلے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
‎شپ ٹریکنگ ذرائع کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے نفاذ سے پہلے زیادہ تر ایرانی جہازوں نے اپنے سفر مکمل کر لیے، جبکہ باقی جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
‎عالمی مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحری سلامتی، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت آنے والے دنوں میں بھی عالمی توجہ کا مرکز رہیں گے، جبکہ توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

More posts