شانگلہ: خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ اور اس سے ملحقہ مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ احتیاطاً گھروں، دکانوں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی جانب چلے گئے۔ کئی علاقوں میں لوگ کافی دیر تک گھروں میں واپس جانے کے بجائے باہر ہی موجود رہے تاکہ کسی ممکنہ آفٹرشاک کی صورت میں محفوظ رہ سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے مختلف علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے فوری طور پر زلزلے کی شدت، زیرِ زمین گہرائی اور مرکز کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جس کے باعث شہری مزید معلومات کے منتظر رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر کسی علاقے سے نقصان کی اطلاع موصول ہوئی تو فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ یکم جولائی 2026 کو بھی اسلام آباد، لاہور، پشاور، سوات، شانگلہ، مردان، بونیر، لوئر دیر اور دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اس وقت زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کی گہرائی 174 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کا مرکز افغانستان کا ہندوکش ریجن تھا۔
شانگلہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے
