اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شرکت کی اور بل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے مجوزہ ترمیمی بل پر بعض تحفظات کا اظہار کیا، تاہم کمیٹی کے بیشتر ارکان نے بل کی حمایت کی جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم کو تقرریوں سمیت اہم انتظامی فیصلوں کے اختیارات حاصل ہونے چاہییں تاکہ حکومتی امور میں تاخیر سے بچا جا سکے۔
کمیٹی کے رکن چوہدری محمود بشیر ورک نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے ہر بار وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانا مناسب نہیں، اس لیے بعض فیصلوں کے لیے وزیراعظم کو زیادہ اختیارات دیے جانے چاہییں۔ اس پر سیکرٹری نجکاری نے وضاحت کی کہ یہ تمام اقدامات کابینہ کے فیصلے کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزارت قانون کے نمائندوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے سابق فیصلوں کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر فیصلے کرنے کی ذمہ دار ہے۔
اجلاس میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر نجکاری ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ حکومت کو پی آئی اے کے سو فیصد حصص کی فروخت سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق 10 ارب روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 45 ارب روپے حصص کی منتقلی کے بعد موصول ہوں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے میں اب تک 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ مزید 45 ارب روپے سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی بھی موجود ہے۔ حکام کے مطابق 30 جون 2025 تک قومی ایئرلائن کے اثاثوں کی مالیت 191 ارب 53 کروڑ روپے جبکہ واجبات 182 ارب 43 کروڑ روپے تھے۔ ان واجبات میں ملازمین کی پنشن سے متعلق 30 ارب 34 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کے طیاروں اور اسپیئر پارٹس پر ایک سال کے لیے جی ایس ٹی سے استثنا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے زور دیا کہ ملک کی تمام ایئرلائنز کے لیے یکساں کاروباری مواقع فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ فضائی شعبے میں منصفانہ مقابلے کی فضا برقرار رہے۔
اجلاس کے اختتام پر نجکاری کمیشن کے حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مقرر کردہ مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ روپے ادا کیے جانے تھے، جن میں سے ایک ارب 70 کروڑ روپے کی ادائیگی ہو چکی ہے جبکہ باقی 20 کروڑ روپے جلد ادا کیے جائیں گے۔
نجکاری کمیٹی نے پی پی پی اتھارٹی ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، پی آئی اے نجکاری پر اہم بریفنگ
